ملاوٹی اور غیر معیاری اشیاء خوردونوش کی کھلے عام تجارت، کینسر، دل کے اور دیگر جان لیوا امراض میں اضافہ- اقبال عیسیٰ خان

ملک بھر کے دیگر شہروں کی طرح گلگت بلتستان، چترال اور کوہستان کے بازاروں میں غیر معیاری، غیر رجسٹرڈ، ایکسپائر شدہ، ملاوٹی اور مضرِ صحت پراسیسڈ فوڈز، کوکنگ آئلز، مصالحہ جات اور دیگر اشیائے خورونوش فروخت ہوتے دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ صرف ناقص خوراک نہیں بلکہ ایک خاموش زہر ہے جو ہمارے گھروں کے چولہوں سے ہماری رگوں میں سرایت کر رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ چند مفاد پرست عناصر معمولی منافع کے لیے پوری قوم کی صحت کو داؤ پر لگا رہے ہیں، اور نگرانی کے کمزور نظام کی وجہ سے یہ زہر ہماری نئی نسل کے جسموں اور مستقبل میں منتقل ہو رہا ہے۔

ناقص اور ملاوٹی کوکنگ آئلز میں موجود ٹرانس فیٹس اور آکسیڈائزڈ چکنائیاں، غیر معیاری مصالحوں میں شامل کیمیکلز اور مصنوعی رنگ، غیر رجسٹرڈ فیکٹریوں میں تیار ہونے والی پیکٹ بند اشیاء، اور ایکسپائر شدہ مصنوعات نہ صرف غذائیت سے خالی ہوتی ہیں بلکہ بیماریوں کی جڑ بن جاتی ہیں۔ ان اشیاء کے استعمال سے مقامی سطح پر جو بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں ان میں کینسر، دل کے امراض، ہائی بلڈ پریشر، شریانوں کی بندش، فالج، ذیابیطس، گردوں کی خرابی، فیٹی لیور، معدے اور آنتوں کے السر، فوڈ پوائزننگ، ہارمونل بگاڑ، بچوں میں نشوونما کی کمی، قوتِ مدافعت کی کمزوری اور موٹاپا شامل ہیں۔
یہ مسئلہ گلگت بلتستان اور چترال میں آسانی سے قابو پایا جا سکتا ہے کیونکہ ان علاقوں کی جغرافیہ اور محدود داخلہ راستے کنٹرول کو مؤثر اور قابلِ عمل بناتے ہیں۔ اگر ہر انٹری پوائنٹ پر خوراک کے سخت معیار کی پابندی اور باصلاحیت فوڈ انسپکٹرز کی تعیناتی کی جائے، تو غیر رجسٹرڈ، ایکسپائر شدہ اور مضر صحت اشیاء کی آمد اور تقسیم پر مؤثر قابو پایا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، بازاروں، ویئرہاؤسز، گاڑیوں اور مینوفیکچرنگ یونٹس کے تصادفی معائنہ سے یہ خطرہ بہت حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

عالمی سطح پر بھی غیر معیاری پراسیسڈ فوڈز کے استعمال سے کولوریکٹل کینسر، کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، نان الکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز، کرونک کڈنی ڈیزیز، فوڈ بورن انفیکشنز، الرجیز، آٹو امیون بیماریاں، اعصابی کمزوریاں، قبل از وقت اموات اور بچوں میں میٹابولک ڈس آرڈرز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سائنسی تحقیق واضح کرتی ہے کہ ملاوٹی مصالحے، مصنوعی پریزرویٹوز اور بار بار استعمال شدہ تیل جسم میں دائمی سوزش پیدا کرتے ہیں جو تقریباً ہر مہلک بیماری کی بنیاد ہے۔

صوبائی حکومت گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے لیے وقت آگیا ہے کہ وہ فیصلہ کن اقدامات کرے: مؤثر فوڈ اتھارٹی کا نظام فعال بنایا جائے، مارکیٹ اور انٹری پوائنٹس پر باقاعدہ اور اچانک معائنہ ہو، غیر رجسٹرڈ فیکٹریاں اور دکانیں سیل کی جائیں، ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف بھاری جرمانے اور قانونی کارروائی کی جائے، جدید فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی جائیں، سپلائی چین کی نگرانی ڈیجیٹل کی جائے، بارکوڈ اور ٹریس ایبلٹی سسٹم نافذ کیا جائے، اور بار بار استعمال شدہ آئلز پر پابندی عائد کی جائے۔ عوامی آگاہی اور تعلیمی نصاب میں غذائی تعلیم شامل کر کے نئی نسل کو باشعور بنایا جائے۔

ہمیں سمجھنا ہوگا کہ خوراک صرف ذائقے کا نام نہیں، یہ زندگی اور صحت کی بنیاد ہے۔ ایک صحت مند قوم ہی مضبوط معیشت اور مستحکم معاشرہ تشکیل دیتی ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی مارکیٹوں اور داخلہ راستوں کو صاف نہ کیا تو کل ہمارے ہسپتال بھر جائیں گے اور ہمارے گھر اجڑ جائیں گے۔ یہ وقت بیداری، احتساب اور اجتماعی ذمہ داری کا ہے۔ اپنے ضمیر کو جگائیں، قانون کو مضبوط کریں، اور آنے والی نسلوں کو محفوظ اور خالص خوراک فراہم کرنے کا عہد کریں۔ یہی حقیقی قیادت، پیشہ ورانہ دیانت اور قوم سے سچی محبت ہے۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *