سینیٹر محمد طلحہ محمود کی کوششوں سے افغانستان سے بازیاب وادیٔ کیلاش کے تین مغوی باشندے شیخاندہ پہنچ گئے، علاقے میں خوشی کا سماں، طلحہ محمود پرپھولوں کی پتیاں نچھاور کردیئے گئے
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) وادی بمبوریت، شیخاندہ کے تین مغوی باشندے افغانستان سے باحفاظت وطن واپس پہنچ گئے۔ ان کی واپسی کو مقامی سطح پر خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود کی کوششوں کے نتیجے میں مغویوں کی رہائی ممکن ہوئی۔
سینیٹر طلحہ محمود جب مغوی افراد کو لے کر وادی پہنچے تو مقامی آبادی کی بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔ مسلم اور کیلاش برادری کے افراد نے مشترکہ طور پر خیرمقدم کیا اور خوشی کا اظہار کیا۔ کئی مقامات پر لوگوں نے پھول نچھاور کیے اور بازیاب افراد کو مبارکباد دی۔
استقبالی تقریب میں دونوں برادریوں کی نمایاں شرکت کو مقامی حلقوں نے بین المذاہب ہم آہنگی کی علامت قرار دیا۔ علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ مغویوں کی واپسی سے نہ صرف متاثرہ خاندانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی بلکہ پوری وادی نے سکھ کا سانس لیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بعض مقامی عمائدین نے کہا کہ سینیٹر طلحہ محمود نے ذاتی دلچسپی لے کر مغویوں کی رہائی کے لیے کردار ادا کیا، جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔ ان کے بقول، اس پیش رفت سے ایک سنگین انسانی مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہوا۔
بعد ازاں شیخاندہ پہنچنے پر اہلِ خانہ نے اپنے پیاروں کا استقبال کیا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ مقامی افراد نے اس کامیاب واپسی پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ چترال کے لوگ پرآمن ، مہذب اور تعلیم یافتہ ہیں ، کل میرے ساتھ دروش کے مقام پر جو ہوا اُس پر مجھے افسوس ہے مگر پھر بھی میں کہتا ہوں کہ آئیے چترال کی ترقی اور پسماندگی کو دور کرنے کیلئے میرے ساتھ دیں ، انھوں نے کہاکہ چترال سے کرپشن کا ناسور ختم کرنے کیلئے بھی ہمیں متحد ہوناپڑے گا، میں اّمید کرتا ہوں کہ آج جو لوگ میرے مخالف ہیں وہ آنے والے وقت میں میرے ساتھ ہونگے،
اس موقع پر علاقے کے عمائدین نے بھی خطاب کیا اور سینٹر طلحہ محمود کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انھیں خراج تحسین پیش کیا، انھوں نے گزشتہ دن دروش میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کارکنان کی فعل کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انھوں نے کہاکہ سینٹر محمد طلحہ محمود ہمارے مغوی بھائیوں کو لیکر چترال آرہا تھا جس پر ہمیں انکا شکریہ ادا کرنے کے بجائے ان پر مبینہ طور پر حملہ کیا گیا جو بطور چترالی ہم میں سے کسی کو بھی زیب نہیں دیا، اور سب افسوس کا اظہا رکررہے ہیں،
یادرہے مغوی باشندوں میں عطاالرحمن، سلیم اللہ اور احتشام الحق شامل ہیں جن کا تعلق کالاش ویلی کے شیخاندہ سے ہے، تقریبا چھ مہینے افغانستان میں قید رہنے کے بعد سینٹر محمد طلحہ محمود کی کوششوں سے رہا ہوکر چترال پہنچ گئے،۔ جنھیں مال مویشی چراتے ہوئے قریبی پہاڑی سے اغوا کرکے افغانستان لے جاکر قید میں رکھا گیا تھا۔




